ابنا: ایران نےہمیشہ مذاکرات کاخیرمقدم کیا ہے اورایٹمی انرجی سمیت مختلف موضوعات پر مذاکرات کےلئےتیارہے۔ اس بنا پر سعید جلیلی اورکیترین اشٹون کےدرمیان ہونےوالےمذاکرات کوئی نئی بات نہيں ہیں اوراس کامطلب ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےساتھ مذاکرات جاری رکھنےپراتفاق رائے ہے۔درحقیقت مذاکرات میں اہم نکتہ طرفین کازاویہ نگاہ ہے کیونکہ اب تک مغرب نےمذاکرات کےدوران جومطالبات کئےہيں اس میں یورےنیم کی بیس فیصدی افزودگی اور فردو ایٹمی تنصیبات کی سرگرمیاں روکنا شامل رہا ہے۔اس وقت بھی کیتھرین اشٹون نےجوبیان دیا ہے وہ اس طرح پیش کیاگیاہے کہ جس سےیہ ظاہرہو کہ مذاکرات کامقصد یہ ہے کہ ایران نےوہ مطالبات مان لئےہيں جومغرب کررہاہے۔اس عمل کےمقابلےميں امریکہ اوراس کےاتحادیوں نے ایران کےتیل کےشعبے پرنئی پابندیاں عائد کردی ہیں اوریہ کوشش کررہےہيں کہ اس طریقےسے بزعم خود ایران کومزیدمذاکرات کاپابند بنادیں ۔ بنابرايں یورپی یونین اورامریکہ کےلئے مذاکرات، پابندیاں اور دھمکیوں میں اضافہ مطلوب آپشن شمارہوتاہے جو دہری روش کےتحت انجام پارہا ہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ جس راستے پر امریکہ اور یورپی یونین نےقدم رکھا ہے اورجسےوہ گفتگوکےساتھ دباؤ کااسٹریٹیجی سمجھتی ہے کیاکسی منطقی راستے پرپہنچےگا یاناکام ہوجائےگااور مذاکرات میں پیشرفت کےلئے مذاکراتی فریق کی نیک نیتی کےبارےمیں صرف شکوک وشبہات میں اضافہ کرےگا؟اس سیاسی ماحول میں جوصاف نظرآتاہے وہ یہ کہ مذاکرات صرف اس لئےہورہے ہيں کہ ایران کوایٹمی مسئلےمیں رویہ تبدیل کرنےپرمجبورکیاجائے۔عالمی برادری کویہ باورکرایاجارہا ہےکہ ایران کاایٹمی پروگرام ایک عالمی تشویش میں تبدیل ہوچکاہے۔البتہ یہ پروپیگنڈہ ایک عرصےسےمسلسل جاری ہے جبکہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان گفتگوکا مسئلہ ایک حساس مسئلہ ہے جسےمتوازن روش کےتحت انجام پاناچاہئے۔کیونکہ اگرایسانہ ہوا تو مذاکرات کامنطقی نتیجہ نہيں نکلےگا۔اس سےقبل ماسکو میں ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان ہونےوالےمذاکرات میں طےپایاتھاکہ مجوزہ پیکج کاجائزہ لینےکےلئےماہرین کی سطح پرمذاکرات جاری رہيں گے۔طرفین کی تجاویزکےتکنیکی پہلوؤں کاجائزہ لینےکےلئےماہرین کی سطح پر مذاکرات ہوچکےہيں۔ ایران نےمذاکرات کےدوران ایسی تجاویزدی ہیں کہ جوپانچ اہم نکات پرمشتمل ہیں اوراس میں چارکاتعلق ایٹمی انرجی سےہے۔ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی تائید کےمطابق اس وقت ایران ایٹمی ایندھن کی ری سائیکلنگ کےشعبےمیں خودکفیل ہوگیاہے اوربوشہرایٹمی بجلی گھرجوایران میں ایٹمی انرجی سےایندھن پیداکرنےکاپہلامرکز ہے گذشتہ سال اگست سےآزمائشی طورپر اپنی سرگرمیاں شروع کرچکاہے۔ایران ، بوشہرميں ایک ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرنےکی صلاحیت رکھنےوالےاپنےدوسرےایٹمی بجلی گھرکی تعمیرکاکام بھی آئندہ برس شروع کردےگا۔اس میں کوئی شک نہيں کہ ایران کےیہ اقدامات ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی اورایران کےدرمیان ہونےوالےتکنیکی موضوعات کےتناظرمیں اورایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےقوانین کےمطابق ہيں اس کےباوجود ایران ممکنہ مسائل پرپوری سنجیدگی سے بغیرکسی پیشگی شرط کےمذاکرات کےلئےتیار ہے۔چنانچہ استانبول دو اورماسکومذاکرات کےدرمیان ایران نے تعاون کوآگےبڑھانےکےلئے پوری نیک نیتی سے آگےقدم بڑھایاہے۔اب دیکھنایہ ہےکہ کیامذاکراتی فریق میں عملی قدم اٹھاتےہوئےایران کااعتماد حاصل کرسکنے کی صلاحیت موجود ہے.
.......
/169